حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مدیر مرکز افکار اسلامی مولانا سید عقیل عباس نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ موجودہ عالمی منظرنامے میں ایران اسلامی اور اس کے نظام کے بارے میں مختلف قسم کی غلط فہمیاں عام کی جا رہی ہیں، جن کی بڑی وجہ امریکی و صہیونی میڈیا کا منظم اور مسلسل پروپیگنڈہ ہے۔ اس پروپیگنڈے کا مقصد نہ صرف ایران اسلامی کی حقیقی تصویر کو مسخ کرنا ہے بلکہ امت مسلمہ کو ایک مضبوط اسلامی نظام سے بدظن کرنا بھی ہے۔ ایسے حساس حالات میں علماء کرام اور طلاب حوزہ کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ وہ حقائق کو واضح انداز میں عوام تک پہنچائیں اور ایسا ہوا بھی کہ جب حوزہ علمیہ سے آئے طلاب نے اپنے اپنے معاشرے میں لوگوں سے ملاقاتوں، مختلف پروگراموں میں شرکت اور منبر و خطابات کے ذریعہ آنکھوں دیکھا حال بیان کیا اور ایران کی مظلومیت کے ساتھ ساتھ اس کی طاقت کو بیان کیا تو اس کی بہت زیادہ تاثیر دیکھنے کو ملی اور خصوصا پاکستانی عوام نے ایرانی عوام کے ساتھ اپنی دینی و ایمانی حمایت کا بھی یقین دلایا۔
اس سلسلہ میں جاری گفت و شنید میں سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ عوام میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کا ازالہ کیا جائے چونکہ امریکی و صہیونی ذرائع ابلاغ ایران کو ایک جارح اور عدم استحکام پیدا کرنے والے ملک کے طور پر پیش کرتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ایران نے ہمیشہ مذاکرات اور سفارتی ذرائع کو ترجیح دی ہے۔ کئی مواقع پر ایران نے مثبت انداز میں مذاکرات کا جواب دیا لیکن اس کے باوجود اس پر ظالمانہ حملے کیے گئے جو عالمی قوانین اور انسانی اصولوں کے سراسر خلاف ہیں۔
ایران کا بنیادی مؤقف اپنی خودمختاری اور قومی وقار کا دفاع ہے۔ یہ دفاع کسی جارحیت پر مبنی نہیں بلکہ ایک فطری اور قانونی حق ہے جسے ہر آزاد ریاست اختیار کرتی ہے۔ جب ایران پر جنگ مسلط کی گئی تو اس نے نہایت حکمت اور شجاعت کے ساتھ نہ صرف اپنا دفاع کیا بلکہ دشمن کو کاری ضربیں بھی لگائیں، جس سے اس کی دفاعی صلاحیت اور عزم کا دنیا بھر میں اعتراف کیا گیا۔
اسی تناظر میں ایک اہم مسئلہ اسلامی عرب ممالک میں موجود امریکی اڈوں اور افواج کا ہے۔ ایران کے نقطہ نظر کے مطابق، اگر ان اڈوں سے اس کے خلاف کارروائیاں کی جائیں تو ان پر حملہ دفاعی حکمت عملی کا حصہ سمجھا جا سکتا ہے۔ تاہم ایران نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ اسلامی ممالک کی خودمختاری اور سرزمین کا احترام کیا جائے اور کسی بھی اسلامی ملک کو براہ راست نقصان نہ پہنچایا جائے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایران نے بین الاقوامی تنہائی کے باوجود غیر معمولی طاقت، استقامت اور شجاعت کا مظاہرہ کیا ہے۔ عالمی دباؤ، اقتصادی پابندیوں اور سیاسی تنہائی کے باوجود ایران کا مضبوط رہنا اس کے نظام کی داخلی قوت اور عوامی حمایت کا واضح ثبوت ہے۔
ان تمام حقائق کو عوام تک پہنچانے میں علماء و طلاب کا کردار نہایت کلیدی ہے۔ وہ نہ صرف علمی و دینی محافل، خطبات اور تحریروں کے ذریعے آگاہی فراہم کر رہے ہیں بلکہ سوشل میڈیا کے میدان میں بھی بھرپور انداز میں سرگرم ہیں۔ وہ عوام کے ذہنوں میں موجود شکوک و شبہات کو دور کر کے انہیں حقیقت سے روشناس کرا رہے ہیں اور امت مسلمہ کے اندر ایران کے لیے دینی و اسلامی ہمدردی کو بھی اجاگر کر رہے ہیں۔
آج کی ضرورت یہ ہے کہ علماء اور طلاب اپنی اس ذمہ داری کو مزید سنجیدگی کے ساتھ نبھائیں کیونکہ فکری جنگ کے اس دور میں قلم، زبان اور میڈیا ہی سب سے مؤثر ہتھیار ہیں۔ اگر حقائق کو صحیح انداز میں پیش کیا جائے تو نہ صرف پروپیگنڈے کا توڑ ممکن ہے بلکہ امت مسلمہ کو ایک مشترکہ موقف پر بھی متحد کیا جا سکتا ہے۔
دعا ہے خداوند متعال ایران و اسلام کو کامیابی و کامرانی عطا فرمائے، دشمنانِ اسلام کو نیست و نابود کرے اور مقاومتی محاذ کو مزید قوت، استقامت اور سربلندی نصیب فرمائے۔ الہی آمین









آپ کا تبصرہ